Breaking news

سفر نامہ:گھر سے دیار مدینہ منورہ تک(قسط ثانی)

سفر نامہ:گھر سے دیار مدینہ منورہ تک از قلم نصیر فیضی

سفر نامہ:گھر سے دیار مدینہ منورہ تک از قلم نصیر فیضی
الحمد للّٰہ صحیح سلامت گھر پہنچنے کے بعد،بقرعید بھی مع اھل و عیال ہنسی خوشی گزارا،چار دن بعد ہم سب کاٹھمانڈ کے سفر کیلئے نکلے،تاکہ حکومت نیپال کی جانب سے دیگر کارروائی مکمل کی جاسکے،وہاں پہنچنے کے بعد،ہم سفر انعام عظیم تیمی کے کسی جان پہچان کے پاس ٹھہرے،جنہوں نے قیام کے ساتھ طعام کا بھی بندوبست فری میں کردیا،دن میں اپنے مقصد اصلی کی تکمیل کیلئے یہاں وہاں دوڑ و بھاگ کی بنا پر ناشتہ اور دوپہر کا کھانا باہر ہوٹل ہی میں کیا کرتے تھے،صرف عشائیہ ان کے یہاں ہوتاتھا،پہلےپہل پولیس اورمیڈیکل رپورٹوں کو بآسانی حاصل کرلیا،رہاN.O.C تو اس کا مسئلہ بڑا اہم تھا۔

دیگر سالوں کی طرح امسال بھی حکومت نیپال این۔او۔سی دینے کے معاملے میں ہم مقبول طلبہ اسلامک یونیورسیٹیوں کے جذباتوں سے کھلوار کررہی تھی،نظریہ مساوات کی بجائے نظریات تفریق سے کام لےرہی تھی،اور اپنے متعصبانہ حرکات وسکنات،ظالمانہ بھید بھاو اور چھوا چھوت کے ذریعہ حقوق کی ادائگی سے انکار کررہی تھی،جبکہ نیپال ایک جمہوری ملک ہے جہاں ہر دھرم اور ہر طبقے کو حقوق میں یکسانیت حاصل ہے،تو پھر عملی میدان میں یہ تفریق کیوں؟

بالآخر ہم نے بھی سابق مقبولین جامعہ اسلامیہ کے نقش قدکو اپنایا،یعنی دلالوں کے ذریعہ سے ہی کام کروانے کا فیصلہ کرلیا،اس مرتبہ دلالوں اور لٹیروں کی بھی کوئی کمی نہیں تھی،ہمارا این۔او۔سی حاصل کرنا گویا ان کی کمائی کا آفر تھا،روپیہ کی لالچ میں ہر کوئی این۔او۔سی دلانے کا وعدہ کررہاتھا،ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو پردے کی آڑ میں اپنی اصلیت کو چھپاکر میٹھی میٹھی بولی بول کر ہم معصوموں کو الجھایا،اور کہا ہم یہ کام بآسانی حکومت سے کرواسکتے ہیں۔

اسی اثنا میں ہماری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جنکا کہناتھا کہ میں فقط دو دن میں این۔او۔سی دلانے پر قادر ہوں،ہمیں یقین تو نہیں ہورہاتھا،پر ہم کربھی کیا سکتےتھے،سنا ہے کہ مجبوری میں گدھےکوبھی باپ کہنا پرتاہے،ہم نے اس سے ملاقات کی اور انہوں نے ہم سے جو بھی کاغذات طلب کیا ہم نے اس کے حوالے کردیا،ہم نے اسے یہ تسلی بھی دلائی کہ آپ کام کروائیے ان شاءاللہ ہم آپ کو خرچ سے زیادہ پیسے دیں گے۔

دوسرے دن وہ کہنےلگا،آپ میں سے ہر کوئی پچیس پچیس ہزار روپیہ جمع کردے،یہ کام کرنے والے آفیسر کا مطالبہ ہے،یہ سنناتھا کہ ہمارے سامنے ماضی میں طلبہ کے ساتھ ہوئی پریشانیاں آنے لگیں،ہم اندر سے ٹوٹنے لگےتھے،ان پر سے امیدیں ختم ہوچکی تھیں،پھر بھی ایک آس لگائے رکھاتھا،چونکہ ہمیں تو یہ کہاگیاتھا کہ بغیراین۔او۔سی کے مدینہ جانا ناممکن ہے،اور اس سے پہلے طلبہ دلالوں کو بیس،تیس،پچاس حتی کے لاکھ روپیہ تک دیکر پانچ مہینہ،آٹھ مہینہ یا سال بھر میں این۔او۔سی لیا کرتے تھے،ہمارے ساتھ دوسری پریشانی یہ تھی کہ منظوری آنے کے ایک یا دو ماہ بعد ہی ہمیں مدینہ پہنچنا تھا،وقت کی قلت اوراین۔او۔سی کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے ہم اسے کچھ احتیاطی شرائط کے ساتھ پیسہ دینے کو بھی راضی ہوگئے۔

پھر مجموعی طور پر چھپن ہزار روپئے ایک قریبی شخص کو امین مان کر اس کے سامنے میں ان کے حوالے کردئے،اوراین۔ او۔ سی ملنے والے دن کا انتظار کرنےلگے،وہ دن بھی آیا جس دن یہ ملنے والاتھا،ہم بہت خوش تھے کہ آج ہمیں این ۔او۔ سی مل ہی جائیگا،پر یہ اتنا آسانی سے مل جائیگا یہ سوچنا تو بھول ہی گیا،ہم نے بذریعہ فون اس سے رابطہ کرنے کی بھرپور کوشش کی،مگر وہ اس دن اپنی عادت کے خلاف رابطے سے باہر رہا،جو ہماری بے چینی و بےقراری کا سبب بنتی جارہی تھی،آخر کار کچھ گھنٹوں بعد فون ریسو کیا،اور جذباتی انداز میں کہا"آپ لوگ پریشان نہ ہوں،میں شام میں ملتاہوں"شام میں ان سے ملاقات ہوئی،تھوڑا بہت ہم کلام ہونے کے بعد ایسا لگا کہ یہ کام یہ اس کے بس کی بات نہیں ہے،فقط اس نے پیسہ کی لالچ میں آکر اپنی اوقات دیکھنا بھول ہی گیا،پھر بھی ہمیں ایک آس تھی کہ آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتاہے،آگے ہم نے اس کی اصلی روپ بھی دیکھی،اس کا لالچ بھی بہت قریب سے دیکھا،اور پھر اخیر میں اس کی بےبسی کی آخری حد بھی دیکھ لی،ہم نے اسے بلایا اور بےشمار نصیحتیں کیں،اور عزت کے ساتھ روپیہ واپس کردینے کو کہا،وہ ہچکچاتاہوا بولا"کل تک مل جائیگا"ہم نے اس کی باتوں سے اتفاق کیا،آنے والے دن اس نے پیسہ دینے سے انکار تو نہیں کیا پر بہت قیل و قال کرنے لگا،کہ ہم نے اس کو دےدیا،اس کو دےدیا،اور مختف تاریخ دیکر روپیہ واپس کردینے کا وعدہ کرتارہا،حتی کہ ہم نے اس کے آفس تک کا چکر لگایا،اسے بہت ڈھونڈنے کی کوشش کی،آفس بھی بند تھا،قریب کے دکانداروں نے بتایا کہ اس کی آفس کو تو کبھی کھلاہوا دیکھتاہی نہیں ہوں،اب ہمارے لئے مسئلہ این۔او۔سی کا نہیں تھا،روپیہ واپس لینے کا تھا۔

پھر ہم نے جس کی موجودگی میں اسے روپیہ دیاتھا،اسے اطلاع دی،انہوں نے کہا یہ بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتاہے،آپ لوگ مطمئن رہیں،روپیہ مل جائیگا،ایک دن اس فریبی کو اپنے آفس میں بلایا،ہم سے کچھ احباب وہاں پہلے سے موجود تھے،موقع پاتے ہی انہوں نے اس کی گاڑی چھین لی،اور کہا "جب تک روپیہ نہیں دیں گے،گاڑی نہیں ملے گی،تب اس نے ندامت و شرمندگی کو اپنے سامنے دیکھ کر پیسہ دینے کا آخری وعدہ کیا اس شرط کے ساتھ کہ آپ مجھے گاڑی اس وقت دیجئے گا جب میں پیسہ دوں گا، آخر کار بہت ساری مشقتوں کو جھیلنے کے بعد انہوں نے ہمیں پیسہ واپس دلوادیا۔

اس سانحہ نے ہمیں ایک میسیج دیا،کہ ہر کسی پر فورا اعتبار نہیں کرنا چاہئے،این ۔ او۔ سی بھی ضروری تھی،اور مدینہ آنا بھی ضروری تھا،اسلئے ہم چھور بھی دیتے تو کیسے؟بہت دعاوں کے بعد ہماری منظوری آئی تھی،ہم نے اپنا قدم پھر آگے بڑھایا اور ہماری ملاقات اس شخص سے ہوئی جو یہ کام ہرسال کرواتے آرہے ہیں اور طلبہ سے انگنت پیسہ لیکر این۔ او۔ سی دلواتے آرہے ہیں،سلام و کلام ہوا،اس کے چال چلن سے ایسا لگ رہاتھا کہ یہ خود میں بہت بڑا ہے،غرور،تکبر،ضدی،بڑکپن،اور انانیت جیسے تمام صفات اس کے اندر موجود تھیں،

پر اس نے تو ہمیں اور زیادہ مایوس کردیا،اس کی زبان بھی اچھی نہیں تھی،اس کے ہاں میں ہاں ملانا بھی ہماری مجبوری تھی،وہ کہتاتھا کہ این۔ او۔ سی میں دلوادوں گا،اور یہ کام فقط میں ہی کرواسکتاہوں،لیکن اسے حاصل کرنے کی کوئی وقت متعین نہیں ہے،سال دوسال بھی لگ سکتاہے،چونکہ اسے بھی یہ معلوم تھا کہ یہ لوگ بغیر این۔ او۔ سی کے نہیں جاسکتے ہیں،اور یہ کام میرے علاوہ اور کوئی کر بھی نہیں سکتاہے،اس لئے انہوں نے ہماری مجبوری کا مکمل فائدہ اٹھانے کی کوشش کی،ہم نے اسے مطلوبہ کاغذات تو دےدیا،پر یہ یقین نہیں تھا کہ یہ شخص ہمیں وقت سے پہلے این۔ او۔ سی دلوا بھی سکتاہے۔

وقت کی قلت کو دیکھتے ہوئے ہم نے ہر اس شخص سے رابطہ کیا جو اپنی آواز حکومت تک پہنچا سکتے تھے،حتی کہ ہم نے جمعیت اھل حدیث کے متعد ممبران سے ربطہ کیا،پر انہوں نے بھی اپنی بےبسی،لاچاری کا بھرپور اظہار کیا،آخر کار وہ دن بھی آیا جس دن کا ٹکٹ تھا،ہم پرسان حال تھے،کہ فضیلت الشخ عبدالصبور ندوی صاحب کا فون آیا،یہ ایم۔ بی۔ سی میں کام کرتے ہیں،قابل،متحرک اور ذی شعور شخص ہیں ،انہوں نے کہا کہ آپ لوگ مطمئن رہیں،آپ بغیر این۔ او۔ سی کے بھی جاسکتے ہیں،چونکہ آپ اسکالر شپ پر جارہے ہیں،شیخ کے ان ہی جملوں نے ہمیں کافی اطمینان دلایا اور ہم آخری دن تک این۔ او۔ سی کے چکر میں دربدر ٹھوکر کھانے کے بعد بغیر این او سی کے جانے کا فیصلہ کرلیا۔

لب پہ دعا تھی،اور رب پر بھروسہ تھا،ڈر بھی بہت لگ رہاتھا،چونکہ ہم تاریخ کے پہلے اشخاص تھے جنہوں نے بغیر این۔ او۔ سی کے مدینہ تک کے سفر کو طئے کرنے کا فیصلہ کیا۔

لیکن الحمد للہ جیسا شیخ نے کہاتھا ویسا ہی ہوا،جتنا زیادہ ڈر تھا،معاملہ کہیں اس سے زیادہ آسان ہوگیا،اور ہم بآسانی مدینہ تک پہنچ چکے۔

پہلی قسط :گھر سے دیارمدینہ تک

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے