Breaking news

سفر نامہ:گھر سے دیار مدینہ تک ازقلم نصیر فیضی(پہلی قسط)

سفر نامہ:گھر سے دیار مدینہ تک از قلم نصیر فیضی

نصیر فیضی: Nasir faizi
قسط اول: زندگی میں بعض ایسے مواقع بھی آتےہیں جہاں خوشی کے بےشمار پودے اگتے ہیں،اور ان خوشیوں کو حاصل کرنے کیلئے ایک انسان کو بہت سارے رنج و غم اور مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑتاہے،ٹھیک اسی طرح میں نے بھی بہت ساری مصیبتوں اور کٹھنائیوں کا سامنا کیا،اور رب سے امید کی رسی کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔

اس وقت کی بات ہے جب میں عالمیت ثانی میں زیر تعلیم تھا اکثرسینئر احباب مجھ سے کہا کرتے تھے کہ محنت و لگن اور دل جوئی کے ساتھ پڑھو تاکہ اچھے نمبرات حاصل کرنے پر کسی سعودی یونیورسیٹی میں اعلی تعلیم کیلئے مقبول ہوسکو،پر وہ سال میرا ویسے ہی بغیر محنت و لگن کے گزرگیا،وجہ صرف یہ تھی کہ میرا چھوٹا بھائی شعبہ حفظ میں زیر تعلیم تھا،اور اس کی طبیعت اکثر و بیشتر علیل و ناساز رہتی تھی،جس کی سوچ و فکر کی بنا پر میں زیادہ محنت نہیں کر سکا،اس کے باوجود الحمد للہ میرا پرسینٹ ممتاز کے قریب قریب تھا۔

سند حاصل کرنے کے بعد جانے پہچانے سینئر احباب کو سند بھیج کر تمام سعودی یونیورسیٹیوں میں تسجیل کروالیا،الحمد للہ فراغت کے فورا بعد ہی میری منظوری آگئی،منظوری کی خبر سنتے ہی زبان و قلب سے رب کے حمد و ثنا جاری و ساری ہوگئے،گھر میں ہر طرف خوشیوں کے پھول کھلنے لگے،گاوں سماج کے لوگ اور دوست و احباب کی جانب سے مبارکبادیاں آنے لگیں،پھر کیا تھا خود ہی گمشدہ دنیا میں ان خوش نصیبوں کو جاننے کی کوشش کی جن کی منظوری میرے ساتھ آئی تھی،پر اس وقت سبھوں کو نہیں جان سکا،کچھ کو جانا جن کو کبھی دیکھا تک نہ تھا،فون پر ہی رابطہ ہوا،پھر کچھ روز بعد دلہی جانے کی بات ہوئی،تاکہ سندوں پر حکومتی اسٹامپ لگے اور آگے کی کارروائی کی جائے،تاریخ متعین کی گئی،اور ہم چار خوش نصیب(انعام عظیم تیمی۔مستقیم سلفی۔ثناءاللہ سلفی۔راقم السطور)

گھرسےنکلے،دوران سفر ٹرین میں کسی سے روبرو نہ ہوسکا،جب اپنی منزل مقصود یعنی دلہی پہنچا تو وہاں ایک دوسرے سے علیک و سلیک اور جان پہچان ہوئی،پھر بٹلہ ہاوس شاہین باغ کے قریب ہی ہمارے ہمسفر انعام عظیم تیمی کے سابق کلاس فیلو وہیں کسی کالج میں زیر تعلیم تھے،ہم سب ان ہی کے پاس ٹھہرے،دن میں سفر کی تھکاوٹ محسوس ہورہی تھی اسلئے سوائے آرام کے کچھ نہ کر سکے ،شام کو کھانا کھانے کے بعد ہم سبھوں نے اپنی سندوں اور دیگر کاغذات کو حکومتی کارروائی کیلئے جناب عبیداللہ مکی کے حوالے کردئیے،جو کئی سالوں سے اس کام کو حکومت سے کرواتے آرہے ہیں

تمام دوستوں کے ساتھ میں نے بھی اپنی سند جمع کروادی،پر افسوس کہ میں ملحق ثقافی والا ایک کاغذ جسے جامعہ دیتی ہےلانا بھول گیا تھا،میری منظوری جامعہ اسلامیہ فیض عام کی عالمیت والی سند سے آئی تھی،میں نے وہاں کے شیخ الجامعہ سے رابطہ کیا،اور لیٹر طلب کرنے کی بات کہی استاذمحترم شیخ الجامعہ  نے فرمایا آپ جب چاہیں لے جاسکتےہیں،میں نے سوچا کہ اپنے علاقائی کسی طالب کے توسط سے منگوالوں پر افسوس کہ دودن قبل ہی بقر عید کی چھٹی ہوچکی تھی،عید میں فقط تین ہی دن باقی تھے،اس لیے سارے طلبہ گھر جاچکے تھے،میرے پاس بذات خود وہاں جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ تھا،میرے ہمسفر یہاں وہاں تاریخی جگہوں کا نظارہ کرکے لطف اندوز ہورہے تھے،اور سیلفی پر سیلفی لئے جارہے تھے،ان کے بیچ میں بھی خوشی کا مالا پہنا ہوا تھا،پر اندر سے غم کا پتلا بناہواتھا،دوران تفریح میں نے ساتھیوں سے کہا"بھائیوں بات ایسی ہے کہ میں واپس آپ لوگوں کے ساتھ گھر نہیں جاسکتا،بلکہ وہ لیٹر جو چھوٹ گیا ہے اسے لانے میں عنقریب نکل جاؤں گا معاف کیجئے گا۔

جب اسٹیشن ٹکٹ لینے گیا تو ریزرویشن ٹکٹ فل تھا،اب کرتابھی تو کیا کرتا سوائے جنرل کے،مجبوری بھی تھی اور جانا بھی ضروری تھا،اس لئے جنرل ٹکٹ لے لیا اور سوچا ریجرویشن ڈبہ میں بیٹھ جاونگا،اور پکڑے جانے پر فائن ادا کر دونگا،مگر ٹرین میں چڑھتے ہی دیکھا کہ چیکنگ بہت سخت ہے،اس لئےمیں نے اپنا ارادہ کو بدلا اور جنرل ہی میں گھبرا کر بھیڑ بھاڑ کو چیرتے پھاڑتے گھس گیا،جب اطمینان سے بیٹھ گیا تو سوچا سامان چیک کرلوں،ہر چیز تو تھی ہی لیکن پر جیسے ہی جیب میں ہاتھ ڈالا تو پتہ چلا کہ پرس غائب ہے،اب تو میرے لئے اور بھی زیادہ پریشانی کا اضافہ ہوگیا،ٹرین کھل چکی تھی اور ساتھی وغیرہ بھی گھر کیلئے روانہ ہوچکے تھے،اسلئے کسی سے مدد طلب کرنے کے تمام دروازے بند ہوچکے تھے،ایسے میں اپنے بڑے بھائی شکیل ثاقب سے رابطہ کرکے حادثہ کی اطلاع دی،اور کہا کہ کچھ روپیہ اسی طرح بھیج دیں جس طرح میرے طالب علمی کے زمانے میں بھیجا کرتے تھے۔

بھیا نے فورا کچھ روپیہ بینک میں ٹرانسفر کئے،بھوک کی شدت بھی شباب پر تھی،اور تقریبا سفر مکمل 24 گھنٹوں پر مشتمل تھا،پیسے نہ ہونے کی بناپر بھوک کی شدت کو بجھانا بھی کوئ آسان کام نہ تھا،البتہ میرے پاس ایک پانی کا بوتل اور ایک کیلو سیب توشئہ سفر کے طور پر موجود تھا،اسی سیب اور پانی سے اپنی بھوک و پیاس کی شدت کو مٹاتا رہا،دوسرے دن صبح جامعہ پہنچا،شیخ الجامعہ سے فون پر رابطہ کیا،شیخ الجامعہ نے کہا جمعہ کے بعد ملیں،پھر جمعہ کے بعد ملاقات ہوئ اور ساتھ میں لیٹر بھی ملا اور جلد بازی میں پوسٹ آفس پہونچ کر لیٹر کو دلہی بھیج دیا،تب جاکر میری بے چینی نے میرا ساتھ چھوڑااور کچھ اطمینان کا سانس لیتے ہوئے گھر کےلئے خوشی خوشی روانہ ہوگیا۔جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری قسط:سفر نامہ:گھر سے دیار مدینہ منورہ تک

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے