Breaking news

نیپال:درگا مندر کی تعمیر میں مسلمانوں نے کیا تعاون، جانیے حقیقت یا افسانہ؟

بانکے کا جانکی گاؤں پالیکا-1 شیو پوری کی رہنے والی 66 سالہ جمیلہ خان اپنے گھر کے قریب کھیت میں ایک پتھر کو برسوں سے درگا ماتا سمجھ رہی تھیں۔(بانکے ضلع-صوبہ5) نیک کام کرنا ہو یا گھر میں کوئی بیمار پڑنے پر وہ درگا ماتا کو یاد کرتی اور منتیں لیتی اور پجاری کے ہاتھ سے پرساد لینے جاتی تھی۔

بانکے جانکی گاؤں پالیکا-1 شیو پوری


اب اس جگہ پر جمیلہ سمیت کچھ مسلمانوں کے تعاون سے درگا کا مندر بنایا گیا ہے۔

خاتون جمیلہ خان نے کہا، ’’پہلے یہ چھوٹا تھا، اب بڑا ہے ہم سب نے مدد کی، اب ہم نے ایک بڑا مندر بنایا ہے۔‘‘

اگرچہ وہ اسلام پر یقین رکھتی ہیں، لیکن وہ کہتی ہیں کہ انہیں درگا دیوی کے مندر پر بھی یقین اور بھروسہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا، "ہم اناج کی فصلیں درگا کے نام پر الگ کرنے بعد ہی کھاتے ہیں ۔"

ایک مقامی باشندے، ممول خان نے کہا کہ دیگر برادریوں کی طرح مسلم کمیونٹی بھی برسوں سے عقیدہ رکھتی ہے، اس لیے وہ درگا ماتا کے مندر کی تعمیر میں مدد کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں ہندو اور مسلمان دونوں ہی درگا ماتا پر عقیدہ رکھتے ہیں، ہم سب نے عقیدے کی وجہ سے مندر بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ایک اور مقامی رہائشی ایثار احمد خان، جو پتھر پوجا کے وقت سے ہی پوجا سبق میں مدد کر رہے ہیں، کو یہ تجربہ ہے۔

انہوں نے کہا، "تمام ذاتوں نے مندر میں حصہ ڈالا ہے، کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ہم بھی وقتاً فوقتاً اسی مندر میں پرساد پیش کرنے آتے ہیں۔"

اس گاؤں میں تقریباً 200 گھر ہیں اور تقریباً 35 گھر مسلم کمیونٹی کے ہیں۔

مسلم کمیونٹی کے لوگ بھی ہندو مندر کی تعمیر کے لیے محنت عطیہ کرنے گئے۔

مسلم کمیونٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کا پیغام دینے کے لیے مندر کی تعمیر میں مدد کی۔

کی پوجا کی تلاوت کے لیے لیمپ آئل اور بخور کی چھڑیاں جیسے دعائیہ مواد بھیجنا آسان رہا ہے۔

مقامی رہائشی ایثار احمد خان کا کہنا تھا کہ مسلم کمیونٹی کے لیے کوئی مسجد نہیں ہے حالانکہ ہندوؤں کے لیے مندر بنایا گیا ہے۔

ان کے مطابق، ہر جمعہ کو کچھ لوگ گھر میں نماز ادا کرتے ہیں، جب کہ دوسرے پڑوسی گاؤں جاتے ہیں۔

مندر کی تعمیر کے بعد مسلم کمیونٹی نے اپنے لیے ایک مناسب مسجد بھی بنانا شروع کر دی ہے۔ صدر تھاپا نے کہا کہ درگا ماتا مندر کے جنوب میں 300 میٹر دور مسجد کی تعمیر شروع ہو گئی ہے۔

وارڈ اور دیہی میونسپلٹی کے تعاون سے ایک مسجد بنائی جا رہی ہے۔

تھاپا نے کہا، "انھوں نے ابھی تک کمیونٹی کی سطح پر شرمدان کے لیے مدد نہیں مانگی ہے۔ اگر وہ مدد مانگیں تو ہم بھی ان کی مدد کے لیے تیار ہیں۔"

یہ خبر "بی بی سی نیوز نیپالی" کی ہے آج صبح انٹرنیٹ کھولتے ہی ٹوئٹر کی نوٹیفکیشن سے سب سے پہلے اسی خبر پر نظر پڑی۔ عنوان یوں تھا दुर्गा माता) प्रति जागेको मुस्लिमको आस्था, मन्दिर निर्माणमा श्रमदान) یعنی درگا ماتا کے تئیں مسلمانوں کا عقیدہ جاگ گیا، مندر کی تعمیر میں یوگدان۔ 

فورا میں نے پوری خبر پڑھی اور حیرانی میں پڑگیا کہ کیسے ایک مسلمان مندر کی تعمیر میں حصہ لے سکتا ہے۔ ایک مسلمان نہیں یہاں تو گاؤں کی پوری مسلم کمیونٹی شرک وکفر کے ڈگر پر جارہی ہے۔اللہ المستعان 

انکے پاس مسجد نہیں ہے۔ساتھ ہی یہ خوش آئند خبر بھی ہے کہ انہوں نے مسجد کی تعمیر شروع کر دی ہے۔

لیکن اس سب کے باوجود نیپال کے علماء کیلئے بہت ہی افسوسناک خبر ہے۔کہاں ہیں علماء، داعین و مبلغین،یہ سب علماء کی کوتاہی کی وجہ سے ہے۔ یہ ایک گاؤں کی بات نہیں بلکہ نیپال کے کئی دیہاتوں کی یہی حالت ہے۔اس طرف دھیان دینے کی اشد ضرورت ہے۔خاص دعاۃ ومبلغ کو تیار کرنا اور انہیں علاقوں میں بھیج کر دین سے دور مسلمانوں کی اصلاح کرنا،شرک وبدعت کی دلدل میں پھنسے مسلمانوں کی اصلاح کرنا نہ صرف جماعت و جمعیت کی ذمہ داری ہے بلکہ فردا فردا ہر مسلمان پر واجب ہے۔

ہندو مسلم دوستی اور ہم آہنگی کے نام پر آج جو کچھ ہورہا ہے سب دین اسلام سے دوری کا نتیجہ ہے۔ 

ایک اور ناحیہ سے مسلمانوں کی ذہن سازی ضروری ہے وہ یہ کہ اس وقت نیپال میں عیسائیت بھی بہت زوروشور سے پھیل رہاہے۔جہاں ہمارا وہم و گمان بھی نہیں جاسکتا وہاں آج عیسائی مبلغین پہنچ چکے ہیں، کئی ہندو عیسائیت کو اپنا چکے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ عیسائیت کی تبلیغ کا حکم انہیں نہیں دیا گیا ہے اس کے باوجود وہ اپنے دین کی تبلیغ کیلئے اتنے متحرک ہیں اور ہمیں "فلیبلغ الشاھد الغائب" کے ذریعے دعوت وتبليغ کا حکم دیا ہے اس کے باوجود ہم اس فریضہ کی انجام دہی میں کوتاہی کرہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے