Breaking news

شاعرِ نیپال:نذیر حسین ساحلؔ (نیپال گنج)

اصل نام نذیر حسین تخلص ساحلؔ تھا۔آپ کی ولادت ۱۹۵۳ء مطابق ۲۰۱۰ بکرمی نیپال گنج میں ہوئی۔والد کا نام محترم شوکت علی فاروقی اور والدہ کا نام محترمہ بتول صاحبہ تھا۔ ہائی اسکول کا امتحان پاس کرنے کے بعد تجارت کا پیشہ اختیار کیا۔

شاعرِ نیپال:نذیر حسین ساحلؔ (نیپال گنج)
نمونہ کلام

آپ کو شاعری میں واصف القادری نانپاروی سے شرف تلمذ حاصل تھا۔آپ کی شاعری میں غم حیات کی تلخیوں کا احساس اور معاشرتی تبدیلیوں کے اثرات موجود ہیں۔آپ کا کلام رسالوں اور اخباروں میں شائع ہوتارہا ہے۔آپ کی وفات سے ۷/اگست ۲۰۱٦ عیسوی کو لکھنؤ میں ہوئی۔


شاعرِ نیپال:نذیر حسین ساحل کا کلام

نمونہ کلام(1)

ابھی بے کلی تم نے دیکھی کہاں ہے

غموں میں خوشی تم نےدیکھی کہاں ہے


جلانے سے پہلے بجھاتے بہت ہیں

سیاست ابھی تم نے دیکھی کہاں ہے


ٹپکتے ہیں آنکھوں سے قطرے لہو کے

ہماری ہنسی تم نے دیکھی کہاں ہے


پناہ مانگتا ہے سمندر بھی مجھ سے

مری تشنگی تم نے دیکھی کہاں ہے


یہ رنگیں نظارے بھی ہو جائیں پھیکے

ابھی سادگی تم نے دیکھی کہاں ہے


مسرت میں جینا بھی ہے کوئی جینا

ابھی زندگی تم نے دیکھی کہاں ہے


ہمیں کارواں ہیں ہمیں ہیں لٹیرے

ابھی رہبری تم نے دیکھی کہاں ہے


بھلا دو گے طوفان دنیا اے ساحلؔ

مری خامشی تم نے دیکھی کہاں ہے


نمونہ کلام(2)

عجب تنہائی غالب ہے گھروں پر

لگی ہے مہر خاموشی لبوں پر


گرانی مسکراہٹ کھا رہی ہے

حکومت بے بسی کی ہے دلوں پر


نہیں رکھتے پرندوں کو بھی بھوکا

کہ دانے ڈال آتے ہیں چھتوں


ہنسا تھا اپنی حالت پر ذرا سا

وہ بھاری پڑ گیا سارے غموں پر


طلب کرتے ہیں ساحلؔ بس خدا سے

یقیں رکھتے نہیں ہیں ہم بتوں پر

حوالہ:نیپال میں اردو شعراء کا تفصیلی جائزہ


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے